ان کہانیوں کو رات کے وقت، اکیلے بیٹھ کر پڑھیں، جب شہر کی روشنیاں دھندلی ہو جائیں۔ تب ان جملوں کا اصل مزہ آتا ہے۔

بہت سی کہانیاں اتنی زیادہ روتی ہیں کہ قاری کا دل اُکتا جاتا ہے۔ مثلاً ایک کہانی میں ہیرو ہر دوسرے پیراگراف بعد اپنی محبوبہ کے لیے "بے بسی" کے آنسو بہاتا ہے، جبکہ اسے ایک بار عملی قدم اٹھانا چاہیے تھا۔ حد سے زیادہ سسکیاں اور شاعرانہ المیہ کہانی کو کمزور کر دیتا ہے۔

سب سے منفرد اور پُرتاثیر کہانی وہ تھی جس میں ایک عورت اپنے شوہر کی پہلی بیوی کو خط لکھتی ہے۔ اس میں حسد، احترام، اور مشترکہ محبت کے جذبات انتہائی پختگی سے پیش کیے گئے تھے۔ یہ روایتی حریفانی سے ہٹ کر ایک بالغ رشتے کی عکاسی تھی۔

ان کہانیوں میں سب سے زیادہ طاقتور وہ کردار لگے جو روایت اور جدیدیت کے درمیان جھول رہے تھے۔ ایک کہانی میں لڑکی جدید یونیورسٹی میں پڑھ رہی تھی، لیکن اس کے والدین پرانے رسوم و رواج کے قیدی تھے۔ اس کا عاشق اسے لفٹ دیتا تھا، مگر وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں باتیں کرتے تھے۔ یہ خاموشی کی زبان، یہ دبی ہوئی آہیں، یہی تو اردو رومان کی جان ہیں۔

اردو افسانوں میں رشتوں اور رومان کی بازیافت